Govt accused of trying to pitch forest royalty holders against each other

چترال ( بشیر حسین آزاد ) چترال کے جنگلاتی علاقوں کے لوگوں نے اسپشل اسسٹنٹ ٹو چیف منسٹراشتیاق اُرمڑ کو خبردار کیا ہے کہ وہ جنگلات کے تحفظ کے نام پر حکومت اور چترال کے جنگلاتی لوگوں کے درمیان جو تصادم پیدا کر رہا ہے ۔
اُس پر نظر ثانی کرکے مسئلے کا درمیانی حل نکالنے کی کوشش کرے ۔ بصورت دیگر اس کے سنگین نتائج نکلیں گے ۔ اور علاقہ بد امنی کا شکار ہو جائے گا ۔ اتوار کے روز دروش میں چترال کے تمام جنگلاتی علاقوں سے ہزاروں افراد نے احتجاجی جلوس نکالا ۔ اور جلسہ کیا ۔ جس سے خطاب کرتے ہوئے جنگلاتی علاقوں کے جائنٹ فارسٹ منیجمنٹ کمیٹیز کے صدر میجر (ر) احمد سعید ، حاجی انظرگل ، حاجی محمد شفا ، حاجی شیرزمین ،شیر محمد ، سہراب خان ، حسین احمد،سیف اللہ کالاش ،شیرمحمد ارندو،جاوید اختروغیرہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ صوبائی حکومت دو سالوں میں ہمیں کچھ دے نہیں سکا ہے ۔ اور اب جنگلات کے تحفظ کے نام پر ہمارے منہ سے نوالہ چھین رہا ہے ۔ جو کہ انتہائی طور پر قابل افسوس ہے ۔
droshانہوں نے کہا ۔ کہ انہیں اشتیاق اُرمڑ کی طرف سے جے ایف ایم سیز کی تحلیل کا اعلان ہرگز قبول نہیں ۔ اور نہ فوزیہ بی بی کو وہ کمیٹی چیر پرسن مانتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جنگلاتی علاقے کے لوگ بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں ۔ اور وہ پہاڑوں میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ اس لئے حکومت کو اُن پر رحم کھانے کی ضرورت ہے ۔ نہ کہ اُن کو مزید پریشانیوں سے دوچار کر دیا جائے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال میں کوئی ٹمبر مافیا نہیں ہے ۔ یہاں مقامی لوگ اپنی جنگلات کے خود نگہبان ہیں ۔ لیکن ایک سازش کے تحت ٹمبر مافیا کا نام لے کر علاقے کے مجبور لوگوں کا چولہا بجھانے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ حکومت اگر جنگلات کی حفاظت چاہتی ہے ۔ تو وہ سو فیصد اُس کو قبول کرتے ہیں ۔ لیکن حکومت کو جنگلاتی علاقے کے لوگوں کیلئے متبادل روزگار کا انتظام کرنا پڑے گا ۔
میجر احمد سعید نے مطالبہ کیا ۔ کہ وقت ہاتھ سے نکلتا جارہاہے ۔ اس لئے صوبائی حکومت ٹرانسپورٹیشن کیلئے تیا ر پڑے ہوئے عمارتی لکڑیوں کو دریا برد ہونے سے بچانے کیلئے فوری طور پر نقل وحمل کی منظوری دے ۔ تاکہ حکومت اور مقامی لوگ ایک بڑے نقصان سے بچ سکیں ۔ انہوں نے ٹینڈر شدہ جنگلات کی کٹائی کرنے اور مارکنگ شدہ جنگلات کے کام کو آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ صوبائی حکومت نے ان مطالبات پر عمل نہیں کیا ۔ تو جنگلاتی علاقوں کے عوام عمارتی اور سوختنی لکڑیوں دونوں کی اپر چترال کیلئے ٹرانسپورٹیشن بند کریں گے ۔ جس کے بعد جو بھی نتائج نکلیں گے ۔ اُس کی ذمہ داری صوبائی حکومت اورمشیر ماحولیات اشتیاق اُڑمر پر ہوگی ۔ احتجاجی جلسے سے امیر جماعت اسلامی حاجی مغفرت شاہ نے خطاب کرتے ہوئے صوبائی حکومت پر الزام لگایا ۔ کہ وہ چترال میں بد امنی کو فروغ دے رہا ہے ۔ اور جنگلات کے مسئلے کو ڈیل کرنے کا طریقہ کار بالکل غلط ہے ۔اس کیلئے سنجیدہ طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔
جلسے سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حاجی سلطان نے بھی خطاب کیا ۔ اور جنگلات سے متعلق صوبائی حکومت کی پالیسیوں کی وضاحت کی ۔ تاہم احتجاجی شرکاء نے اس سے اتفاق نہیں کیا ۔
]]>