Villages near Drosh lack basic facilites

چترال(گل حماد فاروقی) علاقہ دروش کے گرومیل اور دیگر کئی دیہات اس جدید دور میں بھی سڑک، پانی، تعلیم اور صحت کے سہولیات سے محروم۔ اس علاقے میں کئی سو گھرانے رہتے ہیں۔ اس علاقے میں پہاڑی سے سیلابی پانی کیلئے ایک نالہ بنا ہے جسے مقامی زبان میں گول کہتے ہیں۔ یہاں کے لوگ حتیٰ کہ بچے اور خواتین بھی اسی برساتی (سیلابی) سے گزرنے پر مجبور ہیں چند مقامی لوگوں نے ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ جہاں ہم کھڑے ہیں اور جہاں سے گزرتے ہیں یہ کوئی راستہ یا سرک نہیں ہے بلکہ برساتی نالہ ہے اور سیلاب کی صورت میں اس نالے سے گزنا نہ صرف ناممکن بلکہ حطرناک بھی ہوتاہے کیونکہ سیلاب کی صورت میں یہاں سے گزرنا کبھی کبھی جان بھی لیتا ہے۔ بچوں اور خواتین کو بھی اسی سیلابی نالے سے گزرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس علاقے میں سڑکوں کی نہ ہونے کے ساتھ ساتھ سکول، کالج، ہسپتال اور دیگر سہولیات کا بھی فقدان ہے۔اس علاقے میں جانے والا راستہ تھوڑی دور جاکر حتم ہوتا ہے اور بارش کی صورت میں اونچے اور کچے تنگ راستے سے بچوں کیلئے گزرنا نہایت حطرناک ہوتا ہے۔ جبکہ برساتی نالے کے دونوں جانب کئی گھرانے آباد ہیں جبکہ ان مکانات کی تحفظ کیلئے حفاظتی پُشت یا دیوار بھی نہیں ہے اور سیلاب کی صورت میں یہ مکانات سیلاب کی ضد میں آسکتے ہیں۔ یہاں کے لوگ صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گرومیل، پوٹنیان دیہ، دارگیردینی، شاہ نگار بالا، کلدام گول وغیرہ کے دیہات کیلئے سڑک کی بندوبست کی جائے اور سیلابی نالے کے دونوں جانب حفاظتی پُشت (دیوار) تعمیر کی جائے تاکہ ان لوگوں کی جان اور مال کو سیلاب کے حطرات سے نکالا جاسکے۔

]]>

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *