Site icon Chitral Today

Compensation paid to family of slain police official

چترال(نامہ نگار) سال 2012 میں لاہور میں تربیت کے دوران جیل پولیس کو جو نو اہلکار شہید ہوئے تھے ان میں چترال کے علاقہ گوہکیر سے تعلق رکھنے والے شریف اللہ بھی تھے۔
شریف اللہ ڈسٹرکٹ جیل چترال میں ایک ماہ قبل بطور جیل سپاہی بھرتی ہوئے تھے مگرلاہور ٹریننگ کیلئے بھیجے گئے تھے جہاں وہ دوسرے ساتھیوں کے ساتھ شہید ہوئے چترال یونین آف پروفیشنل جرنلسٹ کے صدر گل حماد فاروقی نے رضاکارانہ طور اپنے خرچے پر شہید کے گاؤں جانے کا بندوبست کیا اور اس کی تدفین و تکفینکے ساتھ ساتھ اس کے چھوٹے بچوں، بھائیوں ، بوڑھے باپ وغیرہ کی دکھ بھری کہانی میڈیا کے ذریعے حکام بالا تاک پہنچایا۔ اور غمزدہ حاندان کی طرف سے حکومت سے ان کے ساتھ مالی معاونت کی اپیل کی گئی تھی۔ ڈسٹرکٹ جیل چترال کے سپرنٹنڈنٹ ریاض احمد نے مقامی صحافی گل حماد فاروقی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہایت بہترین انداز میں اس افسوس ناک واقعے کو کوریج دیا جس کے نتیجے میں حکومت کی طرف سے شہید کے ورثاء کو شہداء پیکیج کے تحت 30 لاکھ روپے دئے گئے۔ ان کے بیوہ اور بچوں کو پلاٹ کی مد میں دس (10) لاکھ روپے اور بچوں کی تعلیم کیلئے تین لاکھ روپے دئے گئے۔ اس طرح صحافی کی کوششوں سے شہید کے ورثاء کو 4300000لاکھ روپے دئے گئے۔
شہید کے بوڑھے والد نے بھی مقامی صحافی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید بھی نہیں تھی کہ ان کے بیٹے کے یتیم بچوں اور بیوہ کو اتنی امداد ملے گی کیونکہ اس کی ملازمت کا بہت کم عرصہ ہوا تھا اور عام طور پر جن ملازمین کا ایک ماہ کا ملازمت ہوتا ہے ان کو اکثر یہ پیکیج نہیں دیاجاتا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ ریاض احمد نے مزید بتایا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ گل حماد فاروقی چترال اور چترال کے عوام کی فلاح و بہبود اور علاقے کی ترقی کیلئے اسی طرح اپنی رضاکارانہ خدمات جاری رکھیں گے۔علاقے گوہکیر کے عوام نے بھی چترال یونین آف پروفیشنل جرنلسٹ پینل کا شکریہ ادا کیا جو اس قسم کےواقعات میں رضاکارانہ طور پر نہایت گراں قدر خدمات انجام دیتے ہیں نیز شہید کے بیوی بچوں اور ہل حانہ نے بھی ان کے ساتھ امداد پر حکومت کے ساتھ ساتھ صحافی کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے میڈیا ک ذریعے اس مسئلے کو حکومت کے نوٹس میں لایا۔ واضح رہے کہ چترال یونین آف پروفیشنل جرنلسٹ کے پیشہ ور صحافی چترال کے دور دراز علاقوں میں جاکر اس قسم کے واقعات اور مسائل کو اجاگر کرتے ہیں جس کی وجہ سے علاقے کے لوگو ں کو ریلیف ملتا ہے۔
 
]]>

Share this:

Exit mobile version