Environment-friendly substitute to firewood introduced

چترال (خصوصی رپورٹ) چترال میں کام کرنیوالے ایک مقامی غیر سرکاری ادارے نے سوختنی لکڑی کے متبادل کے طور رپر ماحول دوست ایندھن متعارف کیا ہے جوکہ نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ نہایت آسان اور کم لاگت میں دستیاب ہو سکتی ہے

firewood۔تفصیلات کے مطابق چترال کے ایک مقامی این جی او کر یئٹو ایسوسی ایٹ فار ڈویلپمنٹ ن ے سوختنی لکڑی کا مناسب اور ماحول دوست متبادل ایندھن متعارف کیا ہے جو کہ گھریلو سطح پر تیار کی جاسکتی ہے اور اسے گھریلو مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔چارکول بریکیڈ کے نام سے متعارف کیا جانے والا یہ ایندھن نباتاتی فضلہ اور زرعی اجناس کے باقیات سے تیار کی جاتی ہے اور ایک مخصوص عمل سے گزرنے کے بعد قابل استعمال بن جاتی ہے۔

اس حوالے سے کیڈ کے سربراہ انجنیئر مدثرا لملک کا کہنا ہے کہ یہ ایندھن ماحول دوست ہونے کیساتھ ساتھ چترال کے لئے نہایت مناسب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایندھن کایہ ذریعہ نیپال میں کامیابی کے ساتھ استعمال ہورہی ہے اوروہیں سے انہوں نے اس ٹیکنالوجی کی تربیت حاصل کی ہے۔ انجنیئر مدثر الملک کا کہنا ہے کہ چترال کے غریب لوگ ایندھن کے لئے لکڑی لینے پر کثیر سرمایہ خرچ کرتے ہیں مگر یہ متبادل ایندھن نہایت سستا ہونے کیساتھ ساتھ کسی بھی قسم کے منفی اثرات سے پاک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ایندھن کو گھریلو سطح پر آسانی کے ساتھ تیار کیا جا سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انجنیئر مدثر الملک نے کہا کہ کئی سال قبل انہی کے ادارے نے چترال میں پہلی مرتبہ سولر ٹیکنالوجی کو متعار ف کرایا تھا اور آج آپ دیکھ لیں کہ ہر کونے میں چھوٹے اور بڑے پیمانے پر سولر سسٹم لگائے جارہے ہیں، پہلے پہل تو ناقدین یہی کہتے رہے کہ سولر ٹیکنالوجی چترال کے لئے موزوں نہیں مگر اب ہر جگہ سولر سسٹم استعمال ہو رہے ہیں۔ انکا مزید کہنا ہے کہ چاکول بریکیڈ لکڑی سے دوگنی حرارت دیتی ہے اور کافی دیر تک جلتی ہے جبکہ اسکا دھواں نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ متبادل ذرائع میں بائیو گیس بھی اہم ہے جسکو ترقی دیجا سکتی ہے۔ چترال جیسے پسماندہ علاقے کے عوام کے لئے ایندھن کا یہ متبادل ذریعہ کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ اس علاقے کے غریب لوگوں کو جلانے کی لکڑی حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے نیز اسمیں کثیر سرمایہ بھی خرچ ہوتی ہے۔ چترال میں جنگلات نہایت کم ہیں اور خاص کر شاہ بلوط کے درخت کو نہایت قیمتی اثاثہ مانا جاتا ہے مگر چترال میں توانائی کے دوسرے ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے جنگلات ختم ہوتے آرہے ہیں جسکی وجہ سے ماحولیات ہر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ حکومت اور غیر سرکاری اداروں کو چاہئے کہ وہ توانائی کے اس متبادل ذریعے کو مناسب انداز میں آگے لے آئیں تا کہ غریب لوگوں کو سستے اور ماحول دوست ایندھن میسر آسکے اور ساتھ ساتھ جنگلات کی بے دریغ کٹائی پر قابو پا یا جاسکے۔ پورے ضلع میں صرف جنوبی حصے پر جنگلات موجود ہیں جو کہ بڑی تیزی کیساتھ ختم ہوتے آرہے ہیں مگر اس جانب مناسب توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ متبادل ذرائع کو فروغ دیکر جنگلا ت کو تحفظ دیکر ہم اپنے ملک کو بچا سکتے ہیں۔توانائی کے متبادل ذرائع غربت میں کمی کا بھی سبب بنیں گے کیونکہ ہر سال فی گھرانہ اپنے آمدنی کا معقول حصہ جلانے کے لکڑی لینے پر خرچ کرتی ہے۔

محکمہ جنگلات ، محکمہ ماحولیات کے علاوہ اس شعبے میں کام کرنیوالے دیگر ادارے بالخصوص پائیدار ترقی کے حوالے سے کام کرنے والے غیر سرکاری اداروں کو چاہئے کہ وہ اس جانب خصوصی توجہ دیکر ایندھن کے اس متبادل ذریعے کو کامیاب بناکر لوگوں کی حالت زندگی بدلنے میں کردار ادا کریں۔ توانائی کے متبادل ذرائع کو پہاڑی علاقوں کے عوام میں متعارف کرنے اور ان ماحول دوست ذرائع کے استعمال کو عام کرنے کے سلسلے میں  ایک ادارہ بھی کام کررہی ہے اور اس حوالے سے اس ادارے کا کردار بھی اہم نوعیت کا ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ چترال جیسے پسماندہ پہاڑی علاقے میں آئی سی موڈ کا ادارہ اس سلسلے بھی بھر پور کردار ادا کریگی۔

Environment-friendly substitute of firewood introduced CHITRAL, Dec 23: Environmental friendly substitute of fuel wood introduced by a local NGO. Creative Association for Development (CAD) has introduced an alternate to fire wood, the only fuel component in rural mountainous part of Chitral. Engr. Mudasir ul Mulk, the CEO of CAD told this scribe that the alternate to fire wood is called Charcoal Briquette which was widely used in Nepal. He added that this products is made up of fossil fuel and residues and could easily be prepared at household level. He said that this product is environment friendly, low cost and gives maximum warmth. Charcoal briquette could also be produced at commercial level. It is worth mentioning that the people of Chitral spent proportionate amount of their income on purchasing fire wood which was always expensive in the district. Chitral has very limited forests and these are located in southern part of Chitral. As there were no other source of fuel therefore the rural dweller depends on fire wood by cutting “Oak” trees which was highly value forest species. The massive cutting of forest had very negative impacts on the environment. The introduction of this altenative product could be sign of hope for environmentalists. It needed that the government and semi government organizations look towards this development and support wide introduction and novelization of this product.

 ]]>