Despite drastic cuts in POL prices, Chitral transporters refuse to reduce fares

چترال(گل حماد فاروقی) پٹرول اور ڈیزل کی کرایوں میں کمی کا ایک ہفتے سے بھی زیادہ عرصہ گزر گیا مگر چترال کے ٹرانسپورٹرز عوام کو لوٹنے میں بدستور مصروف ہیں۔ چترال کے اندر اور چترال سے باہر جانے والے تمام گاڑی مالکان مسافروں سے وہی پرانا کرایہ وصول کررہے ہیں جو تیل سستا ہونے سے پہلے لاگو تھا۔ ہمارے نمائندے نے گزشتہ بدھ کے روز نہ صرف اس مسئلے کو میڈیا کے ذریع اجاگر کیا بلکہ ڈپٹی کمشنر کے نوٹس میں بھی یہ بات لائی کہ ڈرائیور ابھی تک پرانا کرایہ وصول کر رہے ہیں جس پر مقامی انتظامیہ نے ہنگامی اجلاس بلاکر نیا کرایہ نامہ جاری کیا اور تمام روٹ پر کرایوں میں حاطر حواہ کمی کی مگر یہ کمی صرف کاغذی کاروائی تک محدود رہی۔ polہمارے نمائندے نے آج ایک بار پھر چترال کے محتلف بس اور گاڑی اڈوں جاکر لوگوں سے پوچھ گچ کی تو عوام نے انتظامیہ کے حلاف شکایات کا انبھار لگایا۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ جب تیل کی قیمت بڑھتی ہے تو ٹرانسپورٹرز اسی وقت کرایہ بڑھاتے ہیں مگر جب تیل کی قیمت کم ہوتی ہے تو کہ لوگ محتلف ہیلے بہانے تلاش کررہے ہیں اور کرائے کم نہیں کررہے ہیں اور اگر حکومت کرایہ کم کرنے کا اعلان کرے تو پھر یہ لوگ گاڑی غائب کر دیتے ہیں۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ ٹریفک پولیس ان ٹرانسپورٹ مافیا سے باقاعدہ بھتہ وصول کررہے ہیں جس میں نیچے سے لیکر اوپر تک سب ملوث ہیں یہی وجہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے تین دن قبل کرایے کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور نیا کرایہ نامہ جاری کیا ہے مگر ٹریفک پولیس اڈے میں نظر نہیں آتا کہ مسافروں سے کرائے کے بابت پوچھے اور زیادہ کرایہ وصول کرنے والوں کے حلاف قانونی کاروائی کرے۔ ہمارے نمائندے نے ایک بار پھر ڈپٹی کمشنر چترال کے نوٹس میں یہ بات لائی کہ ٹرانسپورٹرز ابھی تک وہی پرانا کرایہ وصول کررہے ہیں اور اس سلسلے میں کالج کے طلباء نے اختجاج بھی کیا جس پر ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر مظہر علی شاہ فوری طور پر بونی اڈہ پہنچ گئے۔ اس سلسلے میں جب بونی اڈہ کے منشی سے پوچھا گیا کہ حکومت کے اعلان کے مطابق مسافروں سے کیوں کم کرایہ وصول نہیں کی جاتی جس پر انہوں نے بتایا کہ ٹرانسپورٹ، ڈرائیور یونین کے صدر ممتاز علی جان نے ابھی تک انہیں نیا کرایہ نامہ نہیں دیا ہے اور وہ ا ن کے کہنے پر لوگوں سے زیادہ کرایہ وصول کررہے ہیں۔مسافروں نے الزام لگایا کہ ممتاز علی جان غیر قانونی طریقے سے اور جعلی ووٹوں سے صدر بنا ہے اور وہ صرف عوام کو لوٹنے کیلئے ڈرائیوروں کے خوش کررہے ہیں۔ ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے AAC مظہر علی شاہ نے کہا کہ ہم نے اپنے اجلاس میں ٹرانسپورٹ یونین کا صدر ممتا علی جان کو باقاعدہ بلایا تھا اور ان کو ذمہ واری سونپی تھی کہ وہ اس نئے کرایہ نامہ کو تمام اڈوں میں چسپا ں کرے تاہم وہ ایسا کرنے سے پہلو تہی کررہا ہے جس پر اس کے حلاف قانونی کاروائی ہوگی مگر یہ کاروائی کب ہوگی اس کے بارے میں انہوں نے کچھ بھی نہیں بتایا۔ جب ممتاز علی جان سے فون پر رابطہ کرکے پوچھا گیا کہ وہ کیوں غریب عوام سے زیادہ کرایہ وصول کرکے ان کو لوٹ رہے ہیں تو انہوں نے کوئی تسلی جواب نہیں دے سکا اور وہ بدستور انتظامیہ کو بلیک میل اور عوام کو لوٹنے میں مصروف عمل نظر آتا ہے۔ ہمارے نمائندے نے آیون، بروز، پشاور اور دیر اڈہ بھی جاکر مسافروں سے پوچھا تو انہوں نے یہی شکایت کی کہ حکومت نے تیل کی قیمت کم کی ہے مگر ضلعی انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے ابھی تک اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔ لوگوں نے شکایت کی کہ پشاور چترال کا کرایہ 733 روپے مقرر ہوا ہے مگر مسافروں سے 1300 روپے وصول کی جاتی ہے اسی طرح دیر چترال کا کرایہ 313.96 مقرر ہوا ہے مگر مسافروں سے 600 اور چھوٹے گاڑی 800 روپے وصول کرتے ہیں آیون کا کرایہ چالیس روپے مقرر ہے مگر مسافروں سے 100 روپے وصول کی جاتی ہے۔ چترال بونی 129 روپے مقرر ہے مگر مسافروں سے ابھی تک 150 اور جب گاڑی کم ہو تو 300 روپے وصول کی جاتی ہیں۔ ان اڈوں میں مسافروں کے کثیر تعداد نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کرے کہ وہ ان ٹرانسپورٹروں کے حلاف قانونی کاروائی کرے کیونکہ اس نئے نرح نامہ پر عمل درآمد کروانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ جب ٹریفک پولیس کے انچارج جن کا نام قاضی بتایا گیا اس سے پوچھا گیا کہ ٹریفک پولیس زیادہ کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹروں کے حلا ف کیوں قانونی کاروائی نہیں کرتے اور ابھی تک کتنے گاڑیوں کو جرمانہ کیا گیا تو ان کا رویہ نہایت غیر مناسب تھا اور دہمکی آمیز لہجے میں یہ کہہ کر چلاگیا کہ اس کا کوئی کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا ۔لگتا ہے کہ دروش ہسپتال کی ڈاکٹر کی طرح اسے بھی کسی بڑے آدمی کا آشیر باد حاصل ہے جو گھر بیٹھے چھ سالوں سے تنخواہ لے رہا ہے۔ وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حاطر حواہ کمی کی ہے مگر صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے مسافروں سے بدستور وہی پرانا (زیادہ ) کرایہ وصول کیا جاتا ہے اور شہر ناپرسان کی طرح ماحول بنا ہوا ہے۔

]]>

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *