Birmoghlasht, a historical tourist attraction in Chitral

Birmogh Lasht Fortچترال(گل حماد فاروقی) چترال ٹاؤن سے شمال مغرب کی طرف پہاڑی کے اوپر واقع تاریخی اہمیت کے حامل شاہی قلعہ جسے سمر پیلس بھی کہا جاتا ہے سیاحوں کے لئے دلچسپی کا ایک اہم مرکزہے جسے دیکھنے کے لئے بڑی تعداد میں سیاح اس پہاڑی علاقے کا رخ کرتے ہیں۔

یہ شاہی قلعہ ریاست چترال کے سابق حکمران مہتر سر شجاع الملک نے گرمائی رہاش گاہ کے طور پر1910میں تعمیر کرایا تھا۔اس دوران چترال کے شاہی فرمانروا کا دربار یہاں لگا رہتا تھا۔ یہ قلعہ سطح سمندر سے 8200 فٹ کی بلندی پر واقع ہے جس کیلئے گورنر کاٹیج چترال سے پہاڑ کے دامن میں اونچائی پر راستہ بنایا گیا ہے۔ پاکستان کا معروف ترین نیشنل پارک بھی اسی علاقے میں واقع ہے جسے دنیا بھر میں خصوصی شہرت حاصل ہے۔مقامی زبا میں اس سارے علاقے کا نام’’ برموغ لشٹ ‘‘۔ چترالی زبان میں برموغ اخروٹ کو جبکہ لشٹ میدان کو کہتے ہیں۔ چترال گول نیشنل پارک جنگلی حیات کی مسکن ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں پاکستان کا قومی جانور مارخور کے علاوہ دنیا کے چند ممالک میں پایا جانیوالابرفانی چیتا، بھیڑیا، گیدڑ، لومڑی، مرغ ذرین، شاہین، گولڈن ایگل، تیتر، بٹیر اور دیگر کئی قسم کے نایاب جانور اور پرندے یہاں رہتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ قیام پاکستان سے قبل یہ گرمائی شاہی قلعہ غیر ملکی سفراء اور دیگر حکام میں بے حد مقبول تھا اور کثیر تعداد میں غیر ملکی یہاں کے حسین نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لئے یہاں کا رخ کرتے تھے۔ شاہی خاندان کے چشم چراغ اور ہندوکش ایسوسی ایشن فار پیرا گلائڈنگ کے صدر شہزادہ فرہاد عزیز جو سابق مہتر چترال کے پوتے بھی ہے کا کہنا ہے کہ یہ قلعہ نہایت تاریخی اہمیت کا حامل ہے ،یہاں ماضی میں کثیر تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سفارت کار، سیاح اور مہمان آیا کرتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی قلعہ ابھی آہستہ آہستہ کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگا ہے اور حکومتی اور غیر سرکاری ادارے چترال کے موجودہ مہتر علی ناصر سے تعاون کرکے اس قلعہ کی مرمت کریں تو یہ ایک بار پھر غیر ملکی سفارت کاروں کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔

ماہر تعلیم سیف اللہ جان جسے چترال کے پہلے پیرا گلائڈ پائلٹ کا اعزاز بھی حاصل ہے کا کہنا ہے کہ اس قلعے کی در و دیوار پر مغل طرز کو جو نقش نگاری اور گْلکاری ہوئی ہے اس کی نظیر آج کل کے دور میں بہت کم ملتی ہے۔ اس زمانے میں جب مشینری وغیرہ نہیں تھی مہتر چترال نے ثمر پیلس کے قریب اینٹوں کا بھٹی بنواکر اس کیلئے اینٹیں تیار کئے اور ہندوستان اور کشمیر سے ماہر کاریگروں کو بلاکر اس قلعے کی تعمیر کی۔ثمر پیلس کو یہ بھی خصوصیت حاصل ہے کہ یہاں سے امریکی پیرا گلائڈر پائلٹ نے دنیا کا سب سے بلند ترین اور اونچا ترین پرواز کرنے کا ریکارڈ بھی قائم کیا ہے۔ یہ پورا علاقہ پیراگلائڈنگ کیلئے نہایت موزوں ہے جہاں سے آسانی سے پائلٹوں کو تربیت بھی دی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ ثمر پیلس اور اس شاہی قلعہ سے پورے چترال ٹاؤن کا نظارہ کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ چترال ٹاؤن کے اوپر پہاڑی پر واقع ہے۔

 

]]>